Ad Code

Breaking

Tuesday, 29 October 2024

شبلی فراز کا بیان: بانی پی ٹی آئی بھی نواز شریف اور آصف زرداری کی طرح واپس آ سکتے ہیں



 


شبلی فراز کا بیان: بانی پی ٹی آئی بھی نواز شریف اور آصف زرداری کی طرح واپس آ سکتے ہیں

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ جس طرح سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور آصف علی زرداری وطن واپس آئے ہیں، اسی طرح عمران خان بھی واپس آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا جیل سے باہر آنا کوئی مشکل کام نہیں اور عوام پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حالیہ آئینی ترامیم کا مقصد صرف پی ٹی آئی کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا تھا۔


عمران خان کا معاملہ: شبلی فراز کا مؤقف

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے زور دیا کہ عمران خان کو جیل میں رکھنے کے باوجود ان کے حامیوں کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے کہا:

"جس طرح نواز شریف اور آصف زرداری کو قانونی اور سیاسی طور پر دوبارہ موقع ملا، عمران خان بھی بڑی آسانی سے جیل سے نکل سکتے ہیں۔"

شبلی فراز نے مزید کہا کہ عوام کو یہ بات بخوبی سمجھ آ رہی ہے کہ آئینی ترامیم پی ٹی آئی کے راستے کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ جمہوری اصولوں کے بھی خلاف ہیں۔



آئینی ترامیم پر تنقید

شبلی فراز نے اپنے بیان میں 26 ویں ترمیم کا خاص طور پر حوالہ دیا اور کہا کہ عوام کو یہ ترمیم ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب 27 ویں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں، اور قانون سازی کا سارا زور عوام کے فائدے کے بجائے انہیں نقصان پہنچانے پر لگا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ:

"ایک رات میں ایسی ترمیم پاس کرنے کی کوشش کی گئی جسے کسی سینیٹر نے پوری طرح پڑھا بھی نہیں تھا۔ یہ طریقہ عوام کے حق میں نہیں بلکہ جمہوریت کے خلاف سازش کے مترادف ہے۔"


ضمیر کی مار اور عوامی شعور کا ذکر

شبلی فراز نے مزید کہا کہ "ضمیر کی مار بہت جان لیوا ہوتی ہے" اور عوام پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ سیاسی انتقام پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی قانون سازی جو صرف کسی مخصوص جماعت کو نشانہ بنانے کے لیے کی جائے، دیرپا اثرات نہیں رکھتی اور عوام اس کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔



پاکستانی سیاست کا بدلتا ہوا منظرنامہ

شبلی فراز کا یہ بیان پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں مختلف سیاسی رہنما، جن میں نواز شریف اور آصف زرداری شامل ہیں، دوبارہ سیاست میں متحرک ہو چکے ہیں۔ عمران خان کے لیے بھی ان کے حامیوں کو امید ہے کہ وہ جلد سیاسی منظرنامے پر دوبارہ فعال ہوں گے۔

No comments:

Post a Comment