چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت فل کورٹ اجلاس: زیر التوا مقدمات میں کمی کے لیے 6 ماہ کا منصوبہ تجویز
سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم فل کورٹ اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد عدالت میں موجود زیر التوا 59 ہزار 191 مقدمات کا جائزہ لینا اور ان میں کمی کے لیے عملی اقدامات پر غور کرنا تھا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے تمام ججز شریک تھے، جہاں جسٹس منصور علی شاہ نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے 6 ماہ کا کیس مینیجمنٹ پلان پیش کرنے کی تجویز دی۔
اجلاس کے مقاصد اور پس منظر
سپریم کورٹ کو اس وقت ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے، کیونکہ زیر التوا مقدمات کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ مقدمات کا مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ نہ صرف عدالت کے کام میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے بلکہ عوام کو انصاف کی فراہمی میں بھی رکاوٹ بن رہا ہے۔
فل کورٹ اجلاس کا انعقاد اس لیے کیا گیا تاکہ ججز باہمی مشاورت سے ایسا پائیدار حل نکال سکیں جو نہ صرف زیر التوا مقدمات میں کمی لائے بلکہ آئندہ مقدمات کے التوا سے بچاؤ کو بھی یقینی بنائے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا 6 ماہ کا پلان
اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے تجویز دی کہ زیر التوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے ایک منظم 6 ماہ کا منصوبہ ترتیب دیا جائے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ میں مقدمات کی فوری اور شفاف سماعت کو یقینی بنانا اور عدالت کی کارکردگی میں اصلاحات لانا ہے۔
منصوبے کے اہم نکات:
- مقدمات کی درجہ بندی: مقدمات کی نوعیت اور اہمیت کے مطابق انہیں ترجیحی بنیادوں پر ترتیب دیا جائے گا۔
- ڈیجیٹل کیس مینیجمنٹ: جدید ڈیجیٹل سسٹم کے تحت مقدمات کی سماعت اور پیش رفت کو مکمل طور پر مانیٹر کیا جائے گا۔
- اہم مقدمات کی فوری سماعت: آئینی اور عوامی مفاد سے جڑے مقدمات کو ترجیحی طور پر نمٹایا جائے گا۔
- ہفتہ وار جائزہ اجلاس: ہر ہفتے ججز اور عدالتی عملہ کارکردگی کا جائزہ لے گا تاکہ منصوبے کے مطابق پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
- وکلاء اور عملے کی شمولیت: وکلاء اور عدالتی عملے سے بھی تعاون طلب کیا جائے گا تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔
- عدالتی تعطیلات کا بہتر انتظام: مقدمات کی سماعت کے لیے عدالت کی تعطیلات کو بھی بہتر انداز میں ترتیب دینے کی تجویز دی گئی تاکہ زیادہ مقدمات نمٹائے جا سکیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا عزم
چیف جسٹس نے تمام ججز پر زور دیا کہ وہ جسٹس منصور علی شاہ کے تجویز کردہ 6 ماہ کے منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور تعاون فراہم کریں۔
اجلاس کے اہم فیصلے
فل کورٹ اجلاس میں تمام ججز نے متفقہ طور پر اس بات پر اتفاق کیا کہ زیر التوا مقدمات میں فوری کمی لانے کے لیے 6 ماہ کے منصوبے پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ مزید یہ بھی طے پایا کہ:
- غیر ضروری التوا کی وجوہات کو ختم کرنے کے لیے وکلاء کی حاضری اور درخواستوں کی سختی سے نگرانی کی جائے گی۔
- روزانہ کی بنیاد پر مقدمات کی سماعت کا وقت بہتر بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ کیس نمٹائے جا سکیں۔
- عدالتی عملے کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مقدمات کی تیزی سے سماعت ممکن ہو۔
عوامی توقعات اور چیلنجز
سپریم کورٹ کے اس اجلاس اور 6 ماہ کے منصوبے سے عوام میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ عدالتیں جلد انصاف فراہم کریں گی۔ تاہم، اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین، بشمول ججز، وکلاء، اور عملہ، کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
عدالت کو اس دوران غیر متوقع چیلنجز کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، جیسے نئے مقدمات کا اندراج اور پیچیدہ مقدمات کی سماعت، لیکن مضبوط ارادے اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے ان چیلنجز پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔
نتیجہ
سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس اور جسٹس منصور علی شاہ کا 6 ماہ کا منصوبہ پاکستان کے عدالتی نظام میں بہتری اور اصلاحات کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو نہ صرف زیر التوا مقدمات کی تعداد میں کمی آئے گی بلکہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔
اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سپریم کورٹ اور متعلقہ حکام اس منصوبے پر مؤثر عمل درآمد کر پاتے ہیں یا نہیں۔ امید ہے کہ یہ اقدامات انصاف کے نظام کو زیادہ مؤثر اور فعال بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

No comments:
Post a Comment