کچھی کینال بحالی منصوبہ: واپڈا کی جانب سے لاگت میں 158 فیصد اضافے کا انکشاف
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں زرعی نظام اور پانی کی فراہمی کے لیے نہایت اہمیت رکھنے والے کچھی کینال کی بحالی کے منصوبے میں بڑی مالیاتی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، واپڈا نے کچھی کینال بحالی منصوبے کی لاگت میں 158 فیصد اضافے کا اندازہ پیش کیا ہے۔ اس اضافی لاگت کے انکشاف نے حکومتی اداروں اور عوام میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔
کچھی کینال اور سیلاب سے بحالی کی ضرورت
کچھی کینال بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں کو زرعی پانی فراہم کرتی ہے۔ اس کینال کا منصوبہ 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا حصہ تھا، جب شدید بارشوں اور سیلاب نے بلوچستان کے زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ کچھی کینال کی بحالی ان ہی منصوبوں کا حصہ ہے جس کا مقصد علاقے کی زراعت کو دوبارہ بحال کرنا اور لوگوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
لاگت میں 158 فیصد اضافہ کیوں؟
واپڈا نے اس منصوبے کی لاگت میں 158 فیصد اضافے کی وضاحت پیش کی ہے۔ ادارے کے مطابق، موجودہ عالمی اور مقامی اقتصادی صورتحال، تعمیراتی مواد کی بڑھتی قیمتوں، اور انرجی کی بڑھتی لاگت کے سبب اس منصوبے کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین اس اضافے کو غیرضروری سمجھتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ واپڈا نے آخر کس بنیاد پر یہ تخمینہ لگایا ہے۔
تھرڈ پارٹی توثیق کی شرط
کچھی کینال بحالی منصوبے کی منظوری کو تھرڈ پارٹی کی توثیق سے مشروط کیا گیا تھا۔ اس شرط کا مقصد منصوبے کی شفافیت کو یقینی بنانا تھا تاکہ ہر ایک خرچ کا باقاعدہ جائزہ لیا جا سکے۔ تھرڈ پارٹی توثیق نہ صرف منصوبے کی شفافیت کو یقینی بناتی ہے بلکہ اس سے عوامی اداروں اور واپڈا کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
ممکنہ مسائل اور مستقبل کے اثرات
اگر اس منصوبے کی لاگت میں اضافہ اس حد تک جاری رہا تو یہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کی زرعی ترقی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ کسان اور عوام پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں فوری بحالی کی ضرورت ہے۔ اس منصوبے کی تاخیر یا غیر ضروری اخراجات سے مقامی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
نتیجہ
کچھی کینال کی بحالی میں لاگت کا 158 فیصد اضافہ حکومت اور عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ تھرڈ پارٹی توثیق کی شرط کو مکمل کر کے اس منصوبے کی شفافیت اور ساکھ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومتی اداروں کو چاہیے کہ وہ مزید احتیاط سے اخراجات کا جائزہ لیں اور عوام کے وسائل کا تحفظ کریں تاکہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کسان اور عوام کو بروقت اور مستحکم سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
اس اہم منصوبے پر توجہ دینے اور عوام کی بہبود کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ کچھی کینال جلد از جلد مکمل ہو کر عوام کی خدمت کر سکے اور علاقے کی زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکے۔

No comments:
Post a Comment